Posts

Faisla Mera

Image
نجانے تائی امی کو کس چیز کا زعم تھا۔ چار لڑکوں کا ، بڑے کاروبار کا ۔ تمام خاندان ان کا دم بھرتا تھا۔ بڑی بھابی بڑی بھابی کہتے سب کا منہ سوکھتا تھا۔ یہ سچ ہے ، تائی امی نے دادی جان کی بڑی خدمت کی۔ ہمیشہ ان کی فرماں بردار بہو ٹھہریں۔ بیاہتا نندوں کو ہمیشہ خوش دلی سے خوش آمدید کیا۔ چھوٹی پھوپھو کا پہلا بچہ آپریشن سے پیدا ہوا وہ اپنی سسرال سے دور کراچی میں تھیں۔ بڑی تائی دوسرے دن اسپتال سے اٹھا کر انہیں گھر لے آئیں۔ پورے دو ماہ خدمت کی- اتنی خدمت کہ گھر جاتے ہوئے چھوٹی پھوپھو کی آنکھوں سے موتی جھڑنے لگے، بولیں بھابی! خدا کی قسم آج میری ماں زندہ ہوتیں تو وہ بھی میری اتنی خدمت نہ کر سکتیں بھابی آپ نے مجھے خرید لیا- بڑی تائی نے شفقت سے ان کا ماتھا چوما اور عاصمہ ! میں تمہیں اپنے بہنوں کی طرح خیال کرتی ہوں ۔ اللہ شاہد ہے کہ میں نے تم میں اور اپنی بہنوں میں کبھی کوئی فرق نہیں روا رکھا۔ بس خوشی خوشی  اپنے گھرسدھارو اور ہمارے لیے دعا کیا کرو۔ بھابی ! میری ساری دعائیں آپ اور آپ کے بچوں کے لیے ہیں – ماما اور چچی اوپر والے پورشن میں رہتی تھیں ۔ دو کنال کا کشادہ گھر تھا۔ اپنا اپنا کچن اور اپنا ا...

Zara Si Baat

  بیٹی زار اپنی جاؤ! ذرا پنجیری بنا کر لے آؤ۔ میرا میٹھا کھانے کو جی چاہ رہا ہے۔ نفیسہ بیگم نے کمرے سے ہی نئی نویلی بہو بیگم کو آواز دے ڈالی تھی۔ نئی نئی دلہن تھی اس رشتے کو ابھی صرف ایک مہینہ ہوا تھا۔ وہ سعادت مندی سے جی کہہ کر کچن میں جا پہنچی تھی ۔ نادیہ جب گھر میں ہوتی تھی تب وہ اکثر خود ہی اپنے اور اس کے لیے کھانا پکا لیا کرتی تھیں۔ دوپہر کے لیے بریانی یا پھر آلو گوشت کا سالن انہیں تھکاوٹ کا احساس نہ ہوتا تھا۔ تین چار روٹیاں ڈالنا کون سا جان جوکھوں کا کام ہے ذرا سا تو کام ہے۔ مگر اب جب بہو آ گئی تھی کسی کام کو ہاتھ لگانے کو جی نہیں چاہتا تھا- اپنے بیڈ سے اپنے کمرے اور اپنے اکلوتے بیٹے سے بے انتہا محبت محسوس ہونے لگی تھی۔ زارا ہوگی کوئی بیس اکیس برس کی موٹی موٹی آنکھوں والی صلح جوسی لڑکی پہلے پہل من کو بھائی بھی بہت تھی۔ سکندر کو بھی زارا پسند آئی تھی مگر کہا بھی تو کیا جیسی آپ کی مرضی ۔ حالانکہ اس لڑکی کو دیکھ کر اس کا من مرضی کرنے کو دل کیا تھا مگر سکندر خاصا سیانا بندہ تھا۔ چپ ہی رہا۔ اب نفیسه بیگم دلہن بیاہ کر لے آئی تھیں۔ بڑے ارمان تھے دل میں ، سو پورے ہوئے اب امتحان لینے ...

Kamil Emaan

  تمہارے دلہا بھائی کا بس چلے تو ہر وقت رعب ہی چلاتے رہیں مجھ پر یہ کرو، وہ کرو یہ نہ کرو ہونہہ ۔ پندرہ سالہ مریم کے ہاتھ جو نوٹ بک پہ تیزی سے کچھ لکھنے میں مگن تھے بڑی بہن کے تلخ لہجے میں کی گئی شکایت یا پھر بھڑاس پہ تھم گئے۔ جبکہ بڑی بہن صاحبہ اپنی کہہ کر گنگناتی ہوئی نائٹ کریم سے پیروں سے مساج کرنے میں مگن ہوئیں۔ کمرے کے باہر سے گزرتی صفیہ بیگم کے کانوں میں واضح طور پر رمشا کے الفاظ پڑے تھے۔ جب ہی وہ تیزی سے کمرے میں داخل ہوئیں۔ مریم تمہارا کام ہو گیا کیا جو گپیں لڑا رہی ہو اور رمشا تم ۔  رمشا کو قہر برسانی نگاہوں کی زد میں لیا۔ ذرا میرے ساتھ آؤ  مجھے تم سے بات کرنی ہے۔ کہہ کر وہ تیزی سے چلی گئیں جبکہ رمشا کا مساج کرتا ہاتھ رک گیا۔ مجھ سے کیا کام بھلا ابھی تو ڈیڑھ گھنٹا بیٹھ کر آرہی ہوں۔ بڑبڑاتے ہوئے سلیپرز میں پاؤں گھسائے اور انہیں ڈھونڈتی ہوئی باہر لان میں چلی آئی۔ صفیہ بیگم کرسی پہ بیٹھی ہوئی تھیں اور سر جھکائے کسی گہری سوچ میں گم لگ رہی  تھیں۔ اسے دیکھ کر ماتھے پہ شکنیں دوبارہ سے لوٹ آئیں۔ اس کا ہاتھ پکڑ کر ایک جھٹکے سے اپنے برابر بٹھایا، ایسے کہ رمشا کی چیخ ن...

Neela Sitara

محبت کیا شے ہے۔ زندگی بھر اس لفظ سے عقیدت نبھاتے ، اس نام پر خود کو نچھاور کرتے ، وہ آج پہلی بار اس کے معنی کھوج رہی تھی۔ وفا اور امانتداری کے مفہوم بھی آج اس نے پہلی بار جانچے تھے۔ اس نے زندگی میں کیا کچھ نہیں سنا تھا مگر آج اس نے کیا سنا تھا اور اب وہ خود کیا کہہ گئی تھی۔  آنسوؤں کی دھندلاہٹ میں وہ اس شخص کا چہرہ کا واضح دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی جس کے لیے اس نے اپنی ذات بھلا دی تھی۔ جس کے وجود سے اس نے دنیا میں سب سے بڑھ کر محبت کی تھی، جس کی تکلیف اور خوشی کو اس نے اس سے بڑھ کر محسوس کیا تھا، جس کی محبت تک سے اس نے عشق کیا تھا۔  آج ہر شے ختم ہو رہی تھی شاید صرف اس کے لیے ختم ہو رہی تھی ۔ قول نبھانے ، امانت لوٹانے کا وقت آ گیا تھا۔ اس نے زندگی کو انگلیوں کے بیچ سے بہتے ہاتھوں سے نکلتے محسوس کیا تھا۔ ایشیا میں لیدر کا کام کرنے والی سب سے بڑی کمپنی کا نمائندہ کانٹریکٹ پر دستخط کر کے فائل آگے سرکا چکا تھا۔ فائل اب میرے سامنے رکھی گئی تھی۔ کانٹریکٹ میرا پہلے سے دیکھا ہوا تھا۔ یہ بنوایا ہی میں نے خود تھا،  اپنی مرضی کی شرطوں پر ۔ لیدر کی مصنوعات کی فراہمی کے اس معاہدے کی کت...