Zara Si Baat
بیٹی زار اپنی جاؤ! ذرا پنجیری بنا کر لے آؤ۔ میرا میٹھا کھانے کو جی چاہ رہا ہے۔ نفیسہ بیگم نے کمرے سے ہی نئی نویلی بہو بیگم کو آواز دے ڈالی تھی۔ نئی نئی دلہن تھی اس رشتے کو ابھی صرف ایک مہینہ ہوا تھا۔ وہ سعادت مندی سے جی کہہ کر کچن میں جا پہنچی تھی ۔ نادیہ جب گھر میں ہوتی تھی تب وہ اکثر خود ہی اپنے اور اس کے لیے کھانا پکا لیا کرتی تھیں۔ دوپہر کے لیے بریانی یا پھر آلو گوشت کا سالن انہیں تھکاوٹ کا احساس نہ ہوتا تھا۔ تین چار روٹیاں ڈالنا کون سا جان جوکھوں کا کام ہے ذرا سا تو کام ہے۔ مگر اب جب بہو آ گئی تھی کسی کام کو ہاتھ لگانے کو جی نہیں چاہتا تھا- اپنے بیڈ سے اپنے کمرے اور اپنے اکلوتے بیٹے سے بے انتہا محبت محسوس ہونے لگی تھی۔ زارا ہوگی کوئی بیس اکیس برس کی موٹی موٹی آنکھوں والی صلح جوسی لڑکی پہلے پہل من کو بھائی بھی بہت تھی۔ سکندر کو بھی زارا پسند آئی تھی مگر کہا بھی تو کیا جیسی آپ کی مرضی ۔ حالانکہ اس لڑکی کو دیکھ کر اس کا من مرضی کرنے کو دل کیا تھا مگر سکندر خاصا سیانا بندہ تھا۔ چپ ہی رہا۔ اب نفیسه بیگم دلہن بیاہ کر لے آئی تھیں۔ بڑے ارمان تھے دل میں ، سو پورے ہوئے اب امتحان لینے ...